نماز کے فرائض اور سننِ مؤکدہ (الرواتب)
کا شرعی درجہ: ائمہ اربعہ اور معاصر عرب علماء کی روشنی میں
دینِ اسلام میں پنجگانہ
نمازوں کے ساتھ رسول اللہ ﷺ سے ثابت شدہ سنتوں (السنن الرواتب) کی ایک مستقل اور
اہم شرعی حیثیت ہے۔ جدید دور میں کچھ لوگ تمام سنتوں کو "عام نفل" قرار
دے کر ان کی اہمیت کو کم کرنے کی کوشش کرتے ہیں، جبکہ اسلام کے تاریخی مسالک
(احناف، شوافع، موالک، حنابلہ) اور معاصر عرب محققین کے ہاں ان کا درجہ عام نفلوں
سے کہیں بلند ہے۔
ذیل میں چاروں قدیم
مسالک کی بنیادی کتب اور موجودہ دور کے کبار عرب علماء کے مستند مآخذ، اصل عربی
عبارات اور ترجمہ کے ساتھ جمع کیے گئے ہیں تاکہ حقیقتِ حال بالکل واضح ہو جائے۔
حصہ اول: ائمہ و فقہاء کے اصطلاحی فرق کی وضاحت (جمہور کا موقف)
فقہ حنفی کے ہاں "فرض" اور "واجب" میں فرق ہے، جبکہ باقی تینوں مسالک (شافعی، مالکی، حنبلی) کے ہاں فرض اور واجب میں کوئی فرق نہیں، دونوں ایک ہی چیز ہیں۔ وہ فرائض کے علاوہ رسول اللہ ﷺ کی مستقل عادتِ مبارکہ والی نمازوں کو "السنن الرواتب" یا "الرغائب" کہتے ہیں اور انہیں عام نفل سے الگ ایک تاکیدی درجہ دیتے ہیں۔
۱۔ مالکی مسلک کے بنیادی
مآخذ:
·
کتاب کا نام: بدایۃ المجتہد ونہایۃ المقتصد مصنف: امام ابن رشد قرطبیؒ (المتوفی 595ھ)
اصل عربی عبارت:
"فَإِنَّ جُمْهُورَ الْفُقَهَاءِ عَلَى أَنَّ
الْفَرْضَ وَالْوَاجِبَ اسْمَانِ لِمُسَمًّى وَاحِدٍ، وَقَالَ أَبُو حَنِيفَةَ:
الْفَرْضُ مَا ثَبَتَ بِدَلِيلٍ قَطْعِيٍّ... وَالْوَاجِبُ مَا ثَبَتَ بِدَلِيلٍ
ظَنِّيٍّ."
اردو ترجمہ:
"جمہور فقہاء
(مالکی، شافعی، حنبلی) اس بات پر متفق ہیں کہ فرض اور واجب ایک ہی چیز کے دو نام
ہیں، جبکہ امام ابو حنیفہؒ نے فرمایا کہ فرض وہ ہے جو قطعی دلیل سے ثابت ہو اور
واجب وہ ہے جو ظنی دلیل سے ثابت ہو۔"
شیخ خلیل بن اسحاق مالکیؒ
(المتوفی 776ھ) مالکی فقہ کے بنیادی متن "مختصر خلیل" میں لکھتے ہیں:
"وَنُدِبَ نَفْلٌ... وَأُكِّدَ تَحِيَّةُ مَسْجِدٍ...
وَتَرَاويحُ... وَبَعْدَ مَغْرِبٍ، وَقَبْلَ ظُهْرٍ وَبَعْدَهَا، وَقَبْلَ
عَصْرٍ... وَالرَّغِيبَةُ: فَوْقَ الْمُسْتَحَبِّ وَدُونَ السُّنَّةِ وَهُوَ
الْفَجْرُ. (
ترجمہ: اور نفل پڑھنا
پسندیدہ ہے...اور تاکید کی گئی ہے تحیۃ المسجد کی، تراویح کی، اور مغرب کے بعد،
ظہر سے پہلے اور اس کے بعد، اور عصر سے پہلے کی رکعات کی... اور "رغیبہ"
وہ ہے جو مستحب سے اوپر اور سنت (مستقلہ) کے برابر یا نیچے ہو، اور وہ فجر کی دو
رکعتیں ہیں)۔
حصہ دوم: قدیم تاریخی مسالک کی مستند کتب سے رکعات کی تفصیل اور
درجات
۱۔ فقہ شافعی (شوافع) کا
تفصیلی مآخذ:
شوافع کے ہاں فرائض کے
تابع سننِ رواتب میں سے ۱۰ رکعتیں شدید تاکیدی (مؤکدہ) ہیں۔
·
کتاب کا نام: منہاج الطالبین و عمدۃ المفتیین مصنف: امام ابو زکریا یحییٰ
بن شرف النوویؒ (المتوفی 676ھ)
اصل عربی عبارت:
النَّفْلُ
الْمُؤَقَّتُ... كَالرَّوَاتِبِ مَعَ الْفَرَائِضِ، وَهِيَ سَبْعَ عَشْرَةَ
رَكْعَةً: رَكْعَتَا الْفَجْرِ، وَأَرْبَعٌ قَبْلَ الظُّهْرِ وَرَكْعَتَانِ
بَعْدَهَا، وَأَرْبَعٌ قَبْلَ الْعَصْرِ، وَرَكْعَتَانِ بَعْدَ الْمَغْرِبِ،
وَرَكْعَتَانِ بَعْدَ الْعِشَاءِ، وَرَكْعَتَانِ قَبْلَهَا. وَالْمُؤَكَّدُ
مِنْهَا عَشْرٌ: رَكْعَتَا الْفَجْرِ، وَقَبْلَ الظُّهْرِ رَكْعَتَانِ وَبَعْدَهَا
رَكْعَتَانِ، وَبَعْدَ الْمَغْرِبِ رَكْعَتَانِ، وَبَعْدَ الْعِشَاءِ
رَكْعَتَانِ." (کتاب الصلاة، باب صلاة النفل)
اردو ترجمہ:"وقت کے ساتھ مقید
نفل (سنتیں) فرائض کے ساتھ رواتب کی شکل میں ہیں، اور یہ کل ۱۷ رکعتیں ہیں: دو فجر سے
پہلے، چار ظہر سے پہلے اور دو اس کے بعد، چار عصر سے پہلے، دو مغرب کے بعد، دو
عشاء کے بعد اور دو اس سے پہلے۔ اور ان میں سے مؤکدہ (شدید تاکیدی) ۱۰ رکعتیں ہیں: فجر کی
دو، ظہر سے پہلے دو اور اس کے بعد دو، مغرب کے بعد دو، اور عشاء کے بعد دو
رکعتیں۔"
۲۔ فقہ حنبلی (حنابلہ)
کا تفصیلی مآخذ:
حنابلہ کے ہاں بھی ان
رکعات پر ہمیشگی کرنا ضروری ہے اور ان کو مستقل چھوڑنے والے پر سخت جرح کی گئی ہے۔
·
کتاب کا نام: دقائق أولي النهى لشرح المنتهى (شرح منتہی الارادات) مصنف: امام منصور بن یونس
البہوتیؒ (المتوفی 1051ھ)
اصل عربی عبارت:
(وَالرَّوَاتِبُ)
الْمُؤَكَّدَةُ التَّابِعَةُ لِلْمَكْتُوبَاتِ (عَشْرٌ): رَكْعَتَانِ قَبْلَ
الظُّهْرِ، وَرَكْعَتَانِ بَعْدَهَا، وَرَكْعَتَانِ بَعْدَ الْمَغْرِبِ،
وَرَكْعَتَانِ بَعْدَ الْعِشَاءِ، وَرَكْعَتَانِ قَبْلَ صَلَاةِ الْفَجْرِ...
وَيُسَنُّ أَنْ يُصَلِّيَ قَبْلَ الظُّهْرِ أَرْبَعًا... وَقَبْلَ الْعَصْرِ
أَرْبَعًا. (کتاب الصلاة، باب صلاة التطوع)
اردو ترجمہ:"اور فرائض کے
تابع السنن الرواتب جو مؤکدہ ہیں، وہ ۱۰ رکعتیں ہیں: دو ظہر سے پہلے، دو ظہر کے بعد، دو
مغرب کے بعد، دو عشاء کے بعد، اور فجر کی نماز سے پہلے دو رکعتیں۔۔۔ اور یہ بھی
مسنون (مستحب) ہے کہ ظہر سے پہلے چار اور عصر سے پہلے چار رکعتیں پڑھی
جائیں۔"
۳۔ فقہ مالکی (موالک) کا
تفصیلی مآخذ:
مالکیہ ان رکعات کو عام
نفل سے بہت بلند درجہ دیتے ہیں اور فجر کی سنت کو "رغیبہ" کا خاص نام
دیتے ہیں۔
·
کتاب کا نام: الفواكه الدواني على رسالة ابن
أبي زيد القيرواني مصنف: علامہ احمد بن غنیم
النفراوی المالکیؒ (المتوفی 1126ھ)
اصل عربی عبارت:
"قَالَ
(وَأُكِّدَتْ الرَّغِيبَةُ) وَهِيَ رَكْعَتَا الْفَجْرِ... وَأَمَّا النَّوَافِلُ
الرَّاتِبَةُ مَعَ الْفَرَائِضِ فَمِنْهَا: أَرْبَعُ رَكَعَاتٍ قَبْلَ الظُّهْرِ
وَأَرْبَعٌ بَعْدَهَا، وَأَرْبَعٌ قَبْلَ الْعَصْرِ، وَرَكْعَتَانِ بَعْدَ
الْمَغْرِبِ... فَهِيَ دُونَ السُّنَّةِ وَفَوْقَ النَّفْلِ الْمُطْلَقِ." (كتاب الصلاة، باب صلاة النوافل)
اردو ترجمہ:
"اور تاکید کی گئی
ہے 'الرغیبہ' کی اور وہ فجر کی دو رکعتیں ہیں۔۔۔ رہی بات فرائض کے ساتھ نوافلِ
راتبہ کی تو ان میں سے: چار رکعت ظہر سے پہلے اور چار اس کے بعد، چار عصر سے پہلے،
اور دو مغرب کے بعد ہیں۔۔۔ پس یہ (فرائض کے ساتھ کی سنتیں) سنت (مستقلہ) سے نیچے
اور عام نفل (النفل المطلق) سے بہت اوپر کے درجے کی چیز ہیں۔"
حصہ سوم: موجودہ اور
معاصر عرب علماء کے فتاویٰ و اقوال
موجودہ دور کے کبار
سلفی اور فقہی محققین نے صراحت کی ہے کہ ان سنتوں کو مستقل چھوڑنا سنتِ نبوی سے
اعراض (منہ موڑنے) کے مترادف ہے۔
۱۔ سماحة الشيخ عبد
العزيز بن بازؒ (سابق مفتیِ اعظم، سعودی عرب)
·
کتاب کا نام: مجموع فتاوى ومقالات
متنوعة جلد اور صفحہ: جلد ۱۱، صفحہ ۲۸۹
(باب
صلاة التطوع، فتویٰ: حکم ترک السنن الرواتب)
اصل عربی عبارت:
"السنن الرواتب
اثنتا عشرة ركعة، وكان النبي ﷺ يحافظ عليها في الحضر... وليست نوافل مطلقة بل هي
رواتب مؤكدة... أما تركها بالكلية والاستمرار على ذلك، فهذا مكروه؛ لأنه خلاف
السنة، وخلاف ما كان النبي ﷺ يفعله ويداوم عليه، والإعراض عما داوم عليه النبي ﷺ
مكروه جداً، بل قال بعض أهل العلم: إن الذي يداوم على ترك السنن الرواتب تسقط
شهادته، ولا تقبل؛ لأنه دليل على قلة دينه، وعدم مبالاته بالسنة."
اردو ترجمہ: "سننِ راتبہ ۱۲ رکعتیں ہیں اور نبی کریم ﷺ مقیم ہونے کی حالت
میں ان کی حفاظت فرماتے تھے، یہ عام نفل نہیں ہیں بلکہ رواتبِ مؤکدہ ہیں۔۔۔ رہی
بات ان کو بالکل ہی چھوڑ دینے اور اسی روش پر مستقل قائم رہنے کی، تو یہ عمل سخت
مکروہ (ناپسندیدہ) ہے؛ کیونکہ یہ سنت کے خلاف ہے، اور اس طریقے کے خلاف ہے جس پر
نبی کریم ﷺ خود عمل فرماتے اور ہمیشہ اس پر مداومت فرماتے تھے۔ اور جس عمل پر نبی ﷺ
نے ہمیشہ مداومت فرمائی ہو، اس سے اعراض کرنا (منہ موڑنا) سخت مکروہ ہے۔ بلکہ بعض
اہل علم نے تو یہاں تک فرمایا ہے کہ: جو شخص سننِ راتبہ کو مستقل چھوڑنے کی عادت
بنا لے، اس کی گواہی ساقط ہو جائے گی اور قبول نہیں کی جائے گی؛ کیونکہ یہ اس کے
دین کی کمی اور سنتِ نبوی کی پرواہ نہ کرنے کی دلیل ہے۔"
۲۔ الشيخ محمد بن صالح
العثيمينؒ (نامور سعودی فقیہ و محقق)
·
کتاب کا نام: الشرح الممتع على زاد المستقنع جلد اور صفحہ: جلد ۴، صفحہ ۶۹
اصل عربی عبارت:
والسُنَنُ الرَّوَاتِبُ
لَا يَنْبَغِي لِلإِنْسَانِ أَنْ يَدَعَهَا، بَلْ قَال الإِمَامُ أَحْمَدُ
رَحِمَهُ اللَّهُ: مَنْ تَرَكَ الوِتْرَ وَالرَّوَاتِبَ فَهُوَ رَجُلُ سَوْءٍ لَا
يَنْبَغِي أَنْ تُقْبَلَ شَهَادَتُهُ. وَذَلِكَ لأَنَّ عَدَمَ مُحَافَظَتِهِ
عَلَيْهَا يَدُلُّ عَلَى رَغْبَتِهِ عَنِ السُّنَّةِ، وَقِلَّةِ اهْتِمَامِهِ بِالشَّرِيعَةِ.
اردو ترجمہ: "اور انسان کے لیے یہ بالکل مناسب نہیں ہے کہ وہ سننِ رواتب
کو چھوڑ دے، بلکہ امام احمد بن حنبلؒ نے تو فرمایا ہے: 'جس نے وتر اور رواتب (سنتِ
مؤکدہ) کو چھوڑا، وہ ایک برا شخص ہے، اس کی گواہی قبول کرنا مناسب نہیں'۔ اور یہ
اس لیے ہے کہ ان سنتوں کی حفاظت نہ کرنا، سنتِ نبوی سے بے رغبتی (منہ موڑنے) اور
شریعت کے ساتھ کم اہتمامی (لاپروائی) پر دلالت کرتا ہے۔"
۳۔ اللجنة الدائمة للبحوث
العلمية والإفتاء (سعودی عرب کا مستقل فتویٰ بورڈ)
·
حوالہ مآخذ: فتاوى اللجنة الدائمة (جلد ۷، صفحہ ۲۴۱، فتویٰ نمبر 2341)
اصل عربی عبارت:
وما عداها من السنن
الراتبة تسمى نوافل من حيث إنها زائدة على الفرض، ولكنها من حيث المرتبة سنن مؤكدة
حافظ عليها الرسول ﷺ، والمداومة على تركها دلالة على قلة الدين ورغبة عن السنة.
اردو ترجمہ: "فرائض کے علاوہ سننِ راتبہ کو 'نفل' صرف اس حیثیت سے کہا
جاتا ہے کہ یہ فرض پر زائد (اضافی) ہیں، لیکن اپنے درجے اور مرتبے کے لحاظ سے یہ
'سننِ مؤکدہ' ہیں جن پر رسول اللہ ﷺ نے ہمیشہ مداومت فرمائی ہے۔ ان کو مستقل
چھوڑنے کی عادت بنا لینا دین کی کمزوری اور سنت سے دوری (بے رغبتی) کی علامت
ہے۔"
۴۔ ڈاکٹر وہبہ الزحیلیؒ
(شام کے نامور فقیہ اور دمشق یونیورسٹی کے صدر)
·
کتاب کا نام: الفقه الإسلامي
وأدلته (جلد ۲، الفصل الخامس: الصلوات المسنونة)
اصل عربی عبارت:
"اتفق جمهور
العلماء والفقهاء المعاصرين على أن النوافل ليست في درجة واحدة، بل تنقسم إلى سنن
مؤكدة (وهي الرواتب) وسنن غير مؤكدة ومستحبات... ولا يجوز تسويتها بالنفل المطلق
الذي لا سبب له."
اردو ترجمہ:
"جمہور علماء اور
معاصر فقہاء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ تمام زائد نمازیں (نوافل) ایک ہی درجے کی
نہیں ہیں، بلکہ ان کی تقسیم ہوتی ہے: سنتِ مؤکدہ (جو کہ رواتب ہیں)، سنتِ غیر
مؤکدہ، اور مستحبات۔ اور ان (مؤکدہ سنتوں) کو اس عام نفل کے برابر قرار دینا ہرگز
جائز نہیں ہے جس کا کوئی سبب یا وقت مقرر نہیں ہوتا۔"
مضمون کا خلاصہ اور نتیجہ:
تمام قدیم مسالک کی
بنیادی کتب اور عصرِ حاضر کے کبار عرب علماء کی تحقیقات سے یہ مکتوب اور ثابت ہوا
کہ:
1. شرعی اصطلاح میں فرض کے علاوہ ہر نماز پر "نفل" کا لفظ
لغوی طور پر بولا جا سکتا ہے، لیکن احکام، تاکید اور فضیلت کے لحاظ
سے یہ عام نفلوں کی طرح نہیں ہیں۔
2. تمام تاریخی اسلامی مسالک میں فرائض کے ساتھ لگی ہوئی ان مخصوص
رکعات (۱۰ یا ۱۲ رکعتوں) کو حضور ﷺ کا
مستقل طریقہ ہونے کی وجہ سے شعائرِ اسلام مانا گیا ہے۔
3. یہ نظریہ پیش کرنا کہ "صرف فرائض پڑھیں، باقی سب عام نفل ہیں، پڑھیں یا چھوڑیں برابر ہے"، سراسر غلط اور جمہورِ امت، ائمہ اربعہ اور جدید عرب محققین کے اصولوں کے صریحاً خلاف ہے۔
اسی موضوع سے متعلقہ مزید معلومات کیلئے یہ پوسٹ بھی ضرور پڑھئے
No comments:
Post a Comment