نماز کے فرائض اور سننِ مؤکدہ (الرواتب)
کا شرعی درجہ: ائمہ اربعہ اور معاصر عرب علماء کی روشنی میں
دینِ اسلام میں پنجگانہ
نمازوں کے ساتھ رسول اللہ ﷺ سے ثابت شدہ سنتوں (السنن الرواتب) کی ایک مستقل اور
اہم شرعی حیثیت ہے۔ جدید دور میں کچھ لوگ تمام سنتوں کو "عام نفل" قرار
دے کر ان کی اہمیت کو کم کرنے کی کوشش کرتے ہیں، جبکہ اسلام کے تاریخی مسالک
(احناف، شوافع، موالک، حنابلہ) اور معاصر عرب محققین کے ہاں ان کا درجہ عام نفلوں
سے کہیں بلند ہے۔
ذیل میں چاروں قدیم
مسالک کی بنیادی کتب اور موجودہ دور کے کبار عرب علماء کے مستند مآخذ، اصل عربی
عبارات اور ترجمہ کے ساتھ جمع کیے گئے ہیں تاکہ حقیقتِ حال بالکل واضح ہو جائے۔
حصہ اول: ائمہ و فقہاء کے اصطلاحی فرق کی وضاحت (جمہور کا موقف)
فقہ حنفی کے ہاں "فرض" اور "واجب" میں فرق ہے، جبکہ باقی تینوں مسالک (شافعی، مالکی، حنبلی) کے ہاں فرض اور واجب میں کوئی فرق نہیں، دونوں ایک ہی چیز ہیں۔ وہ فرائض کے علاوہ رسول اللہ ﷺ کی مستقل عادتِ مبارکہ والی نمازوں کو "السنن الرواتب" یا "الرغائب" کہتے ہیں اور انہیں عام نفل سے الگ ایک تاکیدی درجہ دیتے ہیں۔

