باب اول
ایک مجلس کی تین طلاقین چاہے بیک لفظ[1]؎
دی جائیں یا بالفظ متعددہ[2]؎
واقع ہوجاتی ہیں اور تین طلاقوں کے بعد چاہے وہ جس طرح دی گئی ہوں رجعت کرنا شرعاً
ممکن نہیں ہے۔ شریعت کا یہ وہ مسئلہ ہے جس پر اہل سنت والجماعت کے ہر چہار امام
ابو حنیفہ، مالک ، شافعی اور احمد رحمۃ اللہ علیہم کا اتفاق ہے اور نہ صرف یہی
بلکہ دیگر اکابر ائمہ فقہ وحدیث مثلاً امام اوزاعی(امام شام) امام نخعی امام ثوری،
امام اسحٰق امام ابوثور امام بخاری کا بھی یہی قول ہے بلکہ جمہور صحابہ و تابعین و
جمہور ائمہ وخلف اسی کے قائل ہیں چنانچہ امام نووی شرح مسلم (جلد1صفحہ478) میں لکھتے
ہیں۔" وقد اختلف العلماء فی من قال لا مراتہ انت طالق ثلاثا فقال
الشافعی و مالک و ابو حنیفہ و احمد و جماھیر العلماء من السلف والخلف یقع الثلث[3] ؎" اور شیخ امام ابن الہمام فتح القدیر(جلد 3صفحہ 25)
میں فرماتے ہیں "وذھب جمھور من الصحابۃ والتابعین ومن بعد ھم من ائمۃ
المسلمین الی انہ یقع الثلاث[4]؎"