تازہ ترین تحریریں

Showing posts with label متفرق. Show all posts
Showing posts with label متفرق. Show all posts

Thursday, 22 March 2018

الاعلام المرفوعہ فی حکم الطلاقات المجموعۃ - تین طلاق کے بارے میں

 باب اول
ایک مجلس کی تین طلاقین چاہے بیک لفظ[1]؎ دی جائیں یا بالفظ متعددہ[2]؎ واقع ہوجاتی ہیں اور تین طلاقوں کے بعد چاہے وہ جس طرح دی گئی ہوں رجعت کرنا شرعاً ممکن نہیں ہے۔ شریعت کا یہ وہ مسئلہ ہے جس پر اہل سنت والجماعت کے ہر چہار امام ابو حنیفہ، مالک ، شافعی اور احمد رحمۃ اللہ علیہم کا اتفاق ہے اور نہ صرف یہی بلکہ دیگر اکابر ائمہ فقہ وحدیث مثلاً امام اوزاعی(امام شام) امام نخعی امام ثوری، امام اسحٰق امام ابوثور امام بخاری کا بھی یہی قول ہے بلکہ جمہور صحابہ و تابعین و جمہور ائمہ وخلف اسی کے قائل ہیں چنانچہ امام نووی شرح مسلم (جلد1صفحہ478) میں لکھتے ہیں۔" وقد اختلف العلماء فی من قال لا مراتہ انت طالق ثلاثا فقال الشافعی و مالک و ابو حنیفہ و احمد و جماھیر العلماء من السلف والخلف یقع الثلث[3] ؎" اور شیخ امام ابن الہمام فتح القدیر(جلد 3صفحہ 25) میں فرماتے ہیں "وذھب جمھور من الصحابۃ والتابعین ومن بعد ھم من ائمۃ المسلمین الی انہ یقع الثلاث[4]؎"

Friday, 18 December 2015

اعتراض : فرائض و سنت و نوافل وغیرہ کی جو تقسیم کی گئی ہے یہ غیر شرعی اور فضول ہے اور ایجاد اور بدعت ہے

احکامِ شرعیہ کا مدار دلائل پر ہوتا ہے، شریعت کا کوئی بھی حکم ایسا نہیں ہے کہ اس کی بنیاد دلیل شرعی پر نہ ہو، بلکہ شریعت کا جو بھی حکم آپ دیکھیں گے اس کا مدار کسی نہ کسی دلیل پر ہوگا، اور یہ بات واضح ہے کہ دلائل سب کے سب برابر درجہ کے نہیں ہیں، بلکہ ثبوت ودلالت کے اعتبار سے دلائل باہم متفاوت ہیں، چنانچہ اس اعتبار سے دلائل کے چار درجے ہیں: 
  1. وہ دلائل جو ثبوت ودلالت دونوں اعتبار سے قطعی ویقینی ہوں جیسے قرآن کریم کی وہ آیات جو محکم اور واضح الدلالة ہیں، اسی طرح وہ آیات جن کی تفسیر خود قرآن کریم میں مذکور ہے، یا جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی تفسیر کردی ہے، اسی طرح اس قسم میں وہ احادیث بھی شامل ہیں جو تواتر کے ساتھ منقول ہیں اور ان کے مفاہیم بھی قطعی ہیں۔

Tuesday, 4 February 2014

اماموں نے اپنی تقلید سے منع کیا ہے کہ صحیح حدیث پر عمل کرو ہمارا بھی عمل یہی ہے

اذ اصح الحديث فھو مذہبی
(وسوسہ: اماموں نے اپنی تقلید سے منع کیا ہے کہ صحیح حدیث پر عمل کرو ہمارا بھی عمل یہی ہے)
امام  نوویؒ  نے اپنی کتاب (المجموع ) کے مُقدمہ میں اس کا جواب دیا ہے:
وهذا الذي قاله الشافعي ليس معناه أن كل واحد رأى حديثًا صحيحًا قال: هذا مذهب الشافعي، وعمل بظاهره وإنما هذا فيمن له رتبة الاجتهاد في المذهب الخ
یعنی یہ جو امام شافعی رحمہ الله نے کہا ہے کہ  (اذا صح الحديث فھو مذہبی) اس کا یہ معنی ومطلب نہیں ہے کہ ہرایک آدمی جب صحیح حدیث دیکھے تو یہ کہے کہ یہ امام شافعی رحمہ الله کا مذہب ہے اور پھرظاہر حدیث پرعمل کرے بلکہ یہ حکم اس شخص کے لئے ہے جو مذہب میں اجتہاد کا درجہ رکهتا ہو ۔
یہی بات حافظ ابن الصلاح امام شامی وغیرھما  ائمہ نے بھی کی ہے کہ امام شافعی وغیره ائمہ کا یہ قول عامۃ الناس کے لئے نہیں ہے بلکہ اپنے مذہب کے اصحاب وتلامذه کے لئے ہے جو مجتہد فی المذہب کا درجہ رکھتے ہوں ۔
امام ذہبیؒ  کا ارشاد عالیشان                             
حافظ ابن حزمؒ ظاہری  کا قول ہے کہ میں اجتہاد کرتاہوں کسی مذہب خاص میں مقید نہیں حق کی پیروی کرتا ہوں ابن حزم ؒکے اس قول کا رد کرتے ہوئے امام ذہبیؒ فرماتے ہیں۔
میں کہتاہوں جو شخص اجتہاد کے رتبہ کو پہنچ چکا ہو اور س کے حق میں چند ائمہ نے شہادت بھی دے دی ہو اس کے لئے تقلید جائز نہیں ہی۔

Tuesday, 28 January 2014

کبار ائمہ اور مذاہب اربعہ

امام برہان الدین ابرہیمؒ بن علی المالکیؒ  (المتوفٰی ۷۹۹ھ) حضرات ائمہ اربعہؒ اور دیگر ائمہ کرام ؒ کا اور ان کے مقلدین کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں ۔
وغلب مذھب الا وزاعی رحمہ اللہ تعالٰی علٰی الشام و علٰی جزیرۃ الاندلس الٰی ان غلب علیھا مذھب مالکخ بعد المائتین فانقط و اما مذھب الحسنؒ الژوریؒ فلم یکثت اتباعھما ولم یطل تقلید ھما و انسقطع مذھبا  عن قریب  الٰی ان قال  واما اصحاب الطبریؒ والی ثو رؒفلم یکثر واولا طالت مذتھم وانقطع اتباع ابی ثورؒ بعد ثلا ثمأۃ و اتباع الطبریؒ بعد اربعمالۃ واما  داؤدؒ فکشر اتباعہ وانتشر بیلاد بغد او بلا وفارس مذھب وقال بہ قوم قلیل بافریقۃ والا ندلس و ضعف الا ن فھؤ لاء الذین وقع اجماع الناس علٰی تقلید ھم مع الا ختلاف فی اعیافھم و اتفاق  العلماء علیٰ اتباعھم والا قتدء بمذاھبم ودرس کتبھم التفقہ علٰی مأ خذھم ودرس کتبھم والتفقہ علٰی مأخذھم والبناء علٰی مأ خذھم والنبیاء علٰی قواحد ھم والتفریع علٰی قواعدھم والتفریع علٰی اصولھم دون غیر ھم لمن تقد مھم ا و عاصرھم للعلل التی ذکر نا ھا وصا ر الناس الیوم فی اقطار الا رض علٰی خمستہ مذاھب مالکیۃ و حنبلۃ و شافعیۃ و حنفیۃ و داؤدیۃ وھم المعروفون المعرودون بالظاھریۃ