حافظ أبي بكر أحمد بن علي الخطيب البغدادي کی کتاب تاريخ بغداد چوده جلدوں میں ہے ، اس کتاب میں فقهاء ومحدثين وأرباب علوم وأئمہ دین ودیگرمشاہیر زمانہ کے تقریبا (7831 )
تراجم وسوانح واحوال بیان کیئے گئے ہیں ، اوریہ کتاب خطيب البغدادي کی
أهم اوربڑی مشہورکتاب ہے ، کتاب میں تمام علماء بغداد کی تاریخ بیان کرتے
ہیں ، مقدمة الكتاب میں وضاحت فرماتے ہیں کہ یہ تاریخ ان لوگوں پرمشتمل
ہوگی،
تازہ ترین تحریریں
Sunday, 16 September 2012
چند اہم گزارشات
چند اهم گزارشــات
1 =
گذشتہ سطور میں آپ نے اهل حدیث حضرات کے قول وفعل کا کئ مسائل واقوال میں
کهلا اور واضح تضاد ملاحظہ کیا ، تقریبا بیس حوالے میں نے شیخ الاسلام
ابن تیمیہ کی کتب سے بحوالہ ذکرکیئے اوراہل فہم نے خوب جان لیا کہ فرقہ
جدید اہل حدیث کا شیخ الاسلام کی تعلیمات سے کتنا تعلق ہے۔
اجماع و قیاس اور غیر مقلدین
فرقہ جدید اہل حدیث میں شامل لوگ اجماع وقیاس وتقلید مذاهب اربعہ کا شد ومد سے انکارکرتے ہیں ،اوراسی طرح فرقہ جدید اہل حدیث میں ہرکس وناکس نے اپنے آپ کو دین میں درجہ اجتہاد پربٹهایا ہوا هے ، اوراسی طرح كراماتُ الأولياء اوران کے مکاشفات کا نہ صرف انکار کرتے ہیں بلکہ اولیاء الله اوران کے کرامات کا مذاق اڑاتے ہیں ، اوربعض اختلافی مسائل اوربعض علماء کے تفردات پرعمل کرتے ہیں ، یہ سب مذکوره باتیں فرقہ جدید اہل حدیث کے امتیازی صفات میں سے ہیں، اورجواهل اسلام اجماع وقیاس وتقلید مذاهب اربعہ وکرامات اولیاء کےقائل ہیں ان پر یہ لوگ رات دن طعن وتشنیع کرتے ہیں ، اوران کے لیئے جو القابات استعمال کرتے ہیں اس سے آپ خوب واقف ہیں، اب اس کے برعکس ان مسائل میں سلفی اور وهابی مسلک کے امام شیخ ابن عبدالوهاب کا مسلک ان کے بالکل مخالف هے۔
طلاق اور غیر مقلدین
فرقہ جدید اهل حدیث کا مذهب یہ هے کہ تین طلاق ایک ساتهہ دینےسے ایک طلاق واقع هے تین واقع نہیں ہوتیں ، جب کہ اس کے برخلاف جمہورصحابہ وجمهورامت ومحدثین کرام بشمول امام بخاری وائمہ اربعہ سب کا مسلک یہ هے کہ ایک مجلس میں ایک لفظ سے دی گئ تین طلاقیں تین ہی شمار ہوں گی ، اور (هيئة كبار العلماء بالمملكة العربية السعودية) کا بهی یہی متفقہ فیصلہ هے ، اور هم اس ضمن میں هيئة كبار العلماء کا فیصلہ ہی پیش کریں گے ، کیونکہ کتاب (الدیوبندیه) کے جاہل وکاذب افسانہ نگار کے نزدیک حقیقی علماء اهل سنت یہی علماء ہیں،
تراویح اور غیر مقلدین
رمضان المبارک قریب آتے ہی فرقہ اہل حدیث کی طرف سے آٹهہ رکعت تراویح پڑهنے کی پرزور تبلیغ شروع ہوجاتی ہے مختلف پوسٹراور رسالے نمودارہونا شروع ہوجاتے ہیں ، احناف کوچیلنج بازی کا سلسلہ جاری ہوتا ہے، حالانکہ تراویح کا مسئلہ علماء امت کے مابین کبهی اس طرح موضوع بحث نہیں رہا جس طرح فرقہ جدید اہل حدیث کے ظہور کے بعد بن گیا ، اورپهر معاملہ اس حد تک پہنچ گیا کہ یہ لوگ احناف کی ضد میں بیس رکعت تراویح کوخلاف سنت اور بدعت کہنے لگے ، اورکچهہ جاہل لوگ تواس سے بڑهہ کریہ کہنے لگے یہ بیس رکعت تراویح بدعت عُمری ہے (معاذالله) ، بہت ہی افسوس ہوتا ہے کہ امت مسلمہ میں یہ لوگ ایسے مسائل میں اختلاف کرنے لگے بلکہ اس اختلاف کو وہ دلوں میں نفرت اوراختلاف کا سبب بنانے لگے ہیں ، اور پهر بیس رکعت تراویح صرف احناف کا عمل نہیں ہے بلکہ عرب وعجم کے طول وعرض میں جمہورامت بیس رکعت تراویح کے ہی قائل وعامل ہیں ، اوراسی پر زمانہ قدیم سے تعامل ہے ، حاصل یہ کہ اس مسئلہ میں فرقہ جدید اہل حدیث کا مذہب یہ ہے کہ تراویح کی تعداد آٹهہ رکعت ہے اوربیس رکعت بدعت وخلاف سنت ہے۔
علماء اہل سنت ( سلفی علماء ) اور فرقہ جدید نام نہاد اہل حدیث
گذشتہ سطور میں آپ نے کتاب (الدیوبندیه)
اوراس کے جاہل وکذاب لکهاری کی حقیقت واصلیت کوپہچان لیا ، اس کتاب کے
اندر یہ جاہل وکذاب شخص پہلے کسی عبارت سے کوئ خانہ ساز عقیده کشید کرتا ہے
، اور پهر اس کے اوپر یہ عنوان قائم کرتا ہے ، رأي علماء أهل السنة في المسئلة " یعنی اس مسئلہ علماء اہل سنت کی رائے یہ ہے ، پهر شیخ بن باز شیخ عثیمین شیخ فوزان وغیره
چند سلفی علماء میں سے کسی کا کوئ قول ورائے ذکرکرتا ہے ، اب اس طرز سے
ایک یہ تو یہ معلوم ہوا کہ اس شخص کی نظر میں حقیقی علماء اہل سنت یہی دو
چار سلفی علماء ہیں ، اورساتھ ہی یہ بهی معلوم ہوا ان علماء اہل سنت کی سب
تعلیمات ونظریات بهی قرآن وسنت کے عین مطابق ہیں لہذا ان کی تعلیمات
ونظریات کا مخالف علماء اہل سنت کا مخالف قرارپائے گا، ان شاء الله تعالی ذیل میں چند مثالیں ذکرکروں گا ، جس سے آپ کو معلوم ہوگا کہ کتاب (الدیوبندیه)
کا جاہل وکذاب لکهاری اپنے اس دعوے میں بهی جهوٹا ہے اور جن لوگوں کو
علماء اہل سنت کہتا ہے یہ شخص ان کی بهی تمام مسائل میں پیروی نہیں کرتا ،
اوراہل عقل اس شخص کا یہ دجل وفریب جان لیں گے۔
انورشاه کشمیری نے تحریف قرآن کا عقیده اختیار کیا ہے
یہ باطل وکاذب وسوسہ فرقہ جدید اہل حدیث کے بعض جہلاء نے مشہورکیا ہے ،
اورعوام کوگمراه کرنے کے لیئے بلاخوف وخطراس وسوسہ کو استعمال کرتے ہیں ،
حقیقت اس وسوسہ کی یہ ہے کہ حضرت الإمام العلامة
الحافظ الحجة الثقة الثبت المحقق الفقيه المفسرالمحدث الشيخ السيد أنـورشاه
الكشميري رحمه الله( فیضُ الباری شرح بخاری ) میں کتب سماویہ (آسمانی
کتابوں)میں تحریف سے متعلق کلام کرتےہوئے فرماتے ہیں کہ
خوب جان لو کہ تحریف کے بارے میں علماء کے تین مذاہب ہیں ،
شیخ الاسلام ابنِ تیمیہ رحم اللہ فرقہ جدید نام نہاد اہلِ حدیث کی عدالت میں
فرقہ جدید نام نہاد اهل حدیث کے جن كذابين وأفاكين ومجاهيل نے [ الدیوبندیه ]
نامی کتاب لکهی ، اورعلماء دیوبند کی مختلف کتب ورسائل سے كـَرَامـَاتُ
الأولِيـَـاء پرمبنی واقعات وعبارات لے کر کفر و شرک وبدعت کے خانہ
سازشیطانی فتوے لگا کر اپنی عاقبت کوخراب کیا ،،مولاناظفرعلی خان مرحوم نے
توبریلی کی تکفیرسازفیکٹری کے بارے کیا خوب فرمایا تها ،
بریلی کے فتوی کا سستا هے بهاو
جوبکتے ہیں کوڑی کے اب تین تین
خدانے یہ کہ کرانهیں ڈهیل دی
وَأمْـلـِی لهُـم انَّ کـَیدی مَـتـیـْن
بریلی کے فتوی کا سستا هے بهاو
جوبکتے ہیں کوڑی کے اب تین تین
خدانے یہ کہ کرانهیں ڈهیل دی
وَأمْـلـِی لهُـم انَّ کـَیدی مَـتـیـْن
كتاب " الدیوبندیہ " پرايک نظر
کتاب
مذکور تلبيس ابليس کا ایک مكمل مظاہره هے ، اخلاق وکردارکے فساد کی ایک
عبرت گاه هے ، دجل وفریب وخیانت کی ایک مذموم کوشش هے ، بغض وعناد وحسد
وتعصب کا ایک تماشہ گاه هے ، جہالت وحماقت وعداوت کا ایک نمونہ هے ،
بدگمانی بدزبانی بداخلاقی اورتکفیربازی کا ایک مکروه کارنامہ هے ، ساده لوح
اورناواقف مسلمانوں کوگمراه کرنے کی ایک ناپاک سازش هے ، سب وشتم ولعن
طعن وافتراء پردازی وتہمت بازی وبہتان طرازی وبدکلامی وفحش گوئ کا ایک
آئینہ هے ، دروغ گوئ وکذب بیانی میں اپنی نظیرآپ هے ، افتراآت وبہتانات کا
ایک انبارهے ، بے شمارآندہیوں اورطوفانوں میں روشن رہنے والے چراغ
کوپهونکوں سے بجهانے کی ایک ناکام ونامراد سعی هے ،
ابن تیمیہ رح کا کشف اور لوح محفوظ پر اطلاع
ابن تیمیہ رح کا کشف اور لوح محفوظ پر اطلاع
ابن قیم رح شیخ الاسلام کی باطنی فراست کا تذکره کرتے هوئے فرماتے هیں کہ میں نے شیخ الاسلام کی فراست میں عجیب عجیب امور دیکهے اور جو میں نے مشا هده نهیں کیئے وه بهت بڑے هیں اور ان کی فراست کے واقعات کو جمع کرنے کیلئے ایک بڑا دفتر چا ئیے ،فرمایا کہ ابن تیمیہ رح نے ،،699 هجری ،، کے سال اپنے ساتهیوں کو خبر دی کہ ،ملک شام ، میں تاتاری داخل هوں گے اور مسلمانوں کے لشکرکو فتح ملے گی اور ، دِمَشق ، میں قتل عام اور قید وبند نهیں هو گا اور یہ خبر ابن تیمیہ رح نے تاتاریوں کی تحریک سے پهلے دی تهی
پهر ابن تیمیہ رح نے لوگوں کو خبر دی ،،702 هجری ،، میں جب تاتا ریوں کی تحریک شروع هوئ اور انهوں نے ملکِ شام میں داخل هونے کا اراده کیا تو شیخ الاسلام نے فرمایا کہ تاتاریوں کو شکست و هزیمت هو گی اور مسلمانوں کو فتح ونصرت ملے گی اور شیخ الاسلام نے یہ بات قسم اٹها کر کهی ، کسی
Subscribe to:
Posts (Atom)