تازہ ترین تحریریں

Tuesday, 28 January 2014

کبار ائمہ اور مذاہب اربعہ

امام برہان الدین ابرہیمؒ بن علی المالکیؒ  (المتوفٰی ۷۹۹ھ) حضرات ائمہ اربعہؒ اور دیگر ائمہ کرام ؒ کا اور ان کے مقلدین کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں ۔
وغلب مذھب الا وزاعی رحمہ اللہ تعالٰی علٰی الشام و علٰی جزیرۃ الاندلس الٰی ان غلب علیھا مذھب مالکخ بعد المائتین فانقط و اما مذھب الحسنؒ الژوریؒ فلم یکثت اتباعھما ولم یطل تقلید ھما و انسقطع مذھبا  عن قریب  الٰی ان قال  واما اصحاب الطبریؒ والی ثو رؒفلم یکثر واولا طالت مذتھم وانقطع اتباع ابی ثورؒ بعد ثلا ثمأۃ و اتباع الطبریؒ بعد اربعمالۃ واما  داؤدؒ فکشر اتباعہ وانتشر بیلاد بغد او بلا وفارس مذھب وقال بہ قوم قلیل بافریقۃ والا ندلس و ضعف الا ن فھؤ لاء الذین وقع اجماع الناس علٰی تقلید ھم مع الا ختلاف فی اعیافھم و اتفاق  العلماء علیٰ اتباعھم والا قتدء بمذاھبم ودرس کتبھم التفقہ علٰی مأ خذھم ودرس کتبھم والتفقہ علٰی مأخذھم والبناء علٰی مأ خذھم والنبیاء علٰی قواحد ھم والتفریع علٰی قواعدھم والتفریع علٰی اصولھم دون غیر ھم لمن تقد مھم ا و عاصرھم للعلل التی ذکر نا ھا وصا ر الناس الیوم فی اقطار الا رض علٰی خمستہ مذاھب مالکیۃ و حنبلۃ و شافعیۃ و حنفیۃ و داؤدیۃ وھم المعروفون المعرودون بالظاھریۃ

Saturday, 19 October 2013

انگریز اور اہلِ حدیث

ہندستان میں فرقہ غیرمقلدین کا ظہور
سارے عالم اسلام میں غیرمقلدین کا فرقہ باقاعدہ جماعتی رنگ میں نہ کبھی پہلے تھا اور نہ ہی اب موجود ہے۔ صرف ہندستان ایک ایسا ملک ہے جس میں یہ فرقہ کہیں کہیں پایا جاتا ہے لیکن ہندستان میں بھی انگریز کی حکمرانی سے قبل اس گروہ کا کہیں بھی نام و نشان تک نہ تھا۔
ہندستان میں اس فرقہ کا ظہور و وجود، انگریز کی نظرکرم اور چشم التفات کارہین منت ہے، ہندستان میں  جب انگریز نے اپنے منحوس قدم جمائے تو اس نے مسلمانوں میں انتشارو خلفشار، اختلاف دافتاق اور تشتت دلا مرکزیت پیدا کرنے کے لئے “لڑاؤ اور حکومت کرو” کے شاطرنہ اصول کے تحت یہاں کے باشندگان کو مذہبی آزادی دی۔ جس کے پردے میں مذہبی آزاد خیالی اور ذہنی آوارگی کو پروان چڑھانے میں اپنے تمام وسائک کو بروئے کار لایا کیونکہ وہ ابلیس سیاست تھا، بنابریں وہ بخوبی جانتا تھا کہ مذہبی آزاد خیالی ہی تمام فتنوں کا منبر ،مصدر اور سر چشمہ ہے، اس مذہبی آزادی کے نتیجہ میں فرقہ غیرمقلدین ظہور پذیر ہوا۔ پھر اس فرقہ کے بطن فتنہ پرور سے فتنہ نچریت، فتنہ انکار حدیث، فتنہ مرزائیت اور فتنہ اناحیت و تجدد پسندی نے جنم لیا۔

Sunday, 16 September 2012

نمازمیں ہاتھ کیسے اورکہاں باندهنا سنت ہے ؟؟

    الحمد لله والصلاة والسلام على رسول الله وعلى آله وصحبه وسلم

    نمازمیں ہاتهہ کیسے اورکہاں باندهنا سنت ہے ؟؟


    یاد رہے کہ نمازمیں دایاں ہاتهہ بائیں ہاتهہ پرباندهنا مسنون ہے ، اس بارے میں کئ روایات ہیں مثلا بخاری ومسلم کی روایت میں یہی تصریح موجود ہے

    فقد روى البخاري في صحيحه :عن سهل بن سعد رضي الله عنه قال: كان الناس يؤمرون أن يضع الرجل اليد اليمنى على ذراعه اليسرى وفي رواية لمسلم : ثم وضع يده اليمنى على ظهر يده اليسرى . اهـ

رفع یدین کی نماز میں حیثیت اور اس پر احناف کا موقف دلائل کی روشنی میں

رفع یدین کی نماز میں حیثیت اور اس پر احناف کا موقف دلائل کی روشنی میں
نمازکی ابتداء میں تکبیرتحریمہ کہتے وقت رفع یدین (دونوں ہاتھ اٹهانا) بالاتفاق مستحب ہے ، الإمام النووي رحمه الله یہی فرماتے ہیں
قال الإمام النووي في شرح صحيح مسلم : أجمعت الأمة على استحباب رفع اليدين عند تكبيرة الإحرام .
لیکن نمازکی ابتداء میں تکبیرتحریمہ کہتے وقت رفع یدین کے حکم میں اختلاف ہے اس بارے میں دو قول ہیں:
1 = نمازکی ابتداء میں تکبیرتحریمہ کہتے وقت رفع یدین واجب ہے ، امام الأوزاعي اور امام الحميدي یعنی شيخ البخاري اور امام داود الظاهري اوران کے بعض أصحاب اوربقول امام حاکم امام ابن خزيمة اور أحمد بن سيار بن أيوب شوافع میں سے اور امام ابن حزم کا مذهب یہی ہے۔

غیرمقلدین پر امام حافظ ابن رجب الحنبلی رحمہ الله کا رد

جہاں تک آج کل کے غیرمقلدین کا تعلق ہے توحقیقت میں تو ان میں کوئی بهی غیرمقلد نہیں ہے بلکہ سب مقلد ہیں آج کل کے چند جہلاء کی تقلید کرتے ہیں جن کو شیخ کا لقب دیا ہوا ہے جوبهی مذہب حنفی یا امام اعظم یا کسی اورحنفی عالم کے خلاف کچھ واہیات بولتا ہے یا لکهتا ہے تو وه ان کے نزدیک شیخ بن جاتا ہے، فوا اسفاه
یقینا جوحضرات حافظ ابن رجب الحنبلی رحمہ الله سے اوران کی سیرت سے واقف ہیں ان کو اس مذکوره بالا عنوان سے تهوڑا تعجب ہوگا کیونکہ حافظ ابن رجب الحنبلی رحمہ الله ساتویں صدی ہجری کے آدمی ہیں اور غیرمقلدین کا فرقہ تو ہندوستان میں انگریزی دور میں معرض وجود میں آیا ؟؟
لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ حافظ ابن رجب الحنبلی رحمہ الله نے ایک مستقل انتہائی لطیف ومفید رسالہ لکھ کرغیرمقلدین پر رد کیا ہے،  اس رسالہ کا نام ہے؛
الرد علی من اتبع غیر المذاہب الاربعہ
یعنی ان لوگوں پر رد جو مذاہب اربعہ (حنفی ، شافعی ، مالکی ، حنبلی ) کے علاوه کسی اورکی اتباع کرتے ہیں۔

أئمہ مجتهدین وفقهــــاء اســــلام کے مابین اختلافات کے چند اہم اسباب

ائمہ مجتھدین وفقہاء اسلام کے مابین اختلافات کے چند اہم اسباب

گذشتہ سطور میں ائمہ مجتهدین کے اختلاف کی حقیقت ونوعیت اوراس کے کچھ اسباب واقسام کا تذکره ہوا ، اب مزید چند اسباب کا تذکره پیش خدمت ہے۔
1 = لغت عربيہ کی اسالیب اورالفاظ کا معانی پردلالت میں اختلاف
جیسا کہ معلوم ہے کہ لغت عرب لغة القرآن الكريم اورلغة الحديث النبوي الشريف ہے اور پهرعربی زبان دنیا کی سب سے بڑی فصیح وبلیغ و وسیع وأدق ترین زبان ہے عربی زبان میں مُؤوَّل ومُشترك ،حقیقت ومجاز ،عموم وخصوص ، صریح وکنایہ وغیره اصطلاحات بکثرت استعمال ہوتے ہیں اسی بناء پراجتہاد

اختلاف الاّمۃ المجتھدین فی الفروع رحمۃ من اللہ

إختلاف أئمـة المُجتهدين فى الفروع رحمة من اللَّه
وقد اتفقت كلمة علماء الأمة على أن أحكام الشريعة كلها  معللة بمصالح العباد، ولأجلها شرعت، سواء منها ما هدانا الله لمعرفته بالنص عليه أو بالإيماء إليه؛ وما لم نهتد اليه فلحكمة يعلمها الله جل شأنه، ولذلك فإن كثيرا من الأحكام الاجتهادية تتغير بتغير الأزمنة، وقد تختلف باختلاف الأشخاص وطاقاتهم وقدراتهم وظروفهم.
كذلك ينبغي أن نصوص الكتاب والسنة، منها ما هو قطعي في ثبوته، وهو القرآن العظيم والمتواتر من السنة.. وأن من السنة ما هو ظني في ثبوته، مثل: أخبار الآحاد. ودلالة النص قد تكون ظنية، قد تكون قطعية كذلك، ومعرفة كل ذلك له أثره في الاستنباط والاجتهاد

مذاہب أربعه اور آئمہ مجتہدین کے مابین اختلافات کے اسباب ، اورکیا آئمہ مجتہدین کا فروعی مسائل میں اختلاف تفرقہ بازی ہے ؟؟


مذاہب أربعه اور آئمہ مجتہدین کے مابین اختلافات کے اسباب ، اورکیا آئمہ مجتہدین کا فروعی مسائل میں اختلاف تفرقہ بازی ہے ؟؟
مذکوره بالا عنوان کے تحت انتہائ اختصارکے ساتهہ چند اہم باتیں ذکرکروں گا تاکہ ایک عام مسلمان جان سکے کہ مذاہب اربعه اور آئمہ مجتہدین اورفقہاء اسلام کے مابین مسائل میں اختلاف کی وجوہات کیا ہیں اور کیا یہ اختلاف تفرقہ بازی ہے اورآپس میں جنگ وجدل وحسد وبغض کی وجہ سے ہے یا کسی اور جائز ومقبول ومعقول امور کی وجہ سے ہے ؟؟ مذاهب اسلاميه ومذاهب أربعه کا فروعی مسائل میں اختلاف امت کے لیئے رحمت ویُسر وآسانی ہے اوریہ الله تعالى کا فضل وکرم ہے کہ مذاهب مُعتبره مذاهب أربعه یعنی مالكيه وحنفيه وشافعيه وحنابله کے مابین عقائد وأصول الدين میں کوئ اختلاف نہیں ہے بلکہ فروعی مسائل میں ایک جُزئي اورغیرمُضراختلاف ہے اوریہ اختلاف بهی شرعی دلائل وبراہین کی بنیاد پرہے اورتاريخ الإسلام میں کبهی یہ نہیں سنا گیا کہ مذاهب أربعه کا اختلاف محض جهگڑا ونزاع وفساد ہے ، معاذالله

رفع یدین ، فاتحة خلف الإمام ، آمین بالجهر ۔۔۔ بداية المجتهد

رفع یدین ، فاتحة خلف الإمام ، آمین بالجهر وغیره مسائل میں أئمہ أربعہ وغیرہم علماء امت کے مابین فروعی اختلاف موجود ہے ، اوران مسائل پر بے شمار تفصیلی ومختصرکتب ورسائل بهی موجود ہیں ، اور پهر یہ اختلاف حق وباطل کا اختلاف نہیں ہے بلکہ دلائل پرمبنی اختلاف ہے جوکہ امت کے لیئے رحمت ہے ، لہذا اسی وجہ سے میں نے اس تهریڈ میں ان مسائل کا ذکرنہیں کیا 

مثال کے طور پر رفع یدین کا مسئلہ لے لیں ، نماز میں رفع یدین کے سلسلہ میں مختلف روایات وارد ہوئ ہیں ،

جامع المسانید الامام ابی حنیفۃ النعمان رحمہ اللہ

جـامـع مَسَـانيد الإمـام أبـي حنيفـة النعمــان رحمـه الله
إمام أعظم أبـي حنيفـة النعمــان رحمـه الله ان مقدس ومحترم شخصيات ميں سے ہیں ، جن کے خلاف فرقہ جدید نام نہاد اهل حدیث کی طرف طعن وتشنیع وتنقید کا بازار گرم رہتا هے ، اس فرقہ جدید میں شامل تقریبا ہرچهوٹا بڑا إمام عالی شان کی ذات میں توہین وتنقیص کا کچهہ نہ کچهہ اظہار کرتا رہتا ہے ، اور یہ صفت قبیحہ اس فرقہ جدید کے تمام ابناء میں سرایت کی ہوئ ہے ، الاماشاءألله
من جملہ ان وساوس باطلہ کے ایک وسوسہ یہ بهی إمام أعظم أبـي حنيفـة النعمــان رحمـه الله کے خلاف پهیلایا جاتا هے کہ ان کو تو حدیث کا کچهہ بهی پتہ نہیں تها علم حدیث سے بالکل کورے تهے ( معاذالله ) ،اس باطل وسوسہ پرکچهہ بحث غالبا گذشتہ سطور میں گذرچکی ہے ،لیکن مزید اطمینان قلب کی خاطرمیں إمام أعظم أبـي حنيفـة النعمــان رحمـه الله کی ان مسانید کا تذکره کروں گا ، جن کوکباراهل علم نے جمع کیا هے.